ہمارا پرائمری نظامِ تعلیم۔۔ اصلاحات کا متقاضی

    کسی بھی قوم کی ترقی کا انحصار اس کی تعلیمی صلاحیت ہر منحصر ہے۔ تعلیم، جو اندھیرے سے روشنی کی جانب رہنمائی فراہم کرتی ہے، اسے پستیوں سے بلندیوں پر فائز کرتی ہے۔۔۔۔ جہالت کی شبِ سیاہ سے روزِروشن کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
    جی ہاں! تعلیمی نظام جب تک موثر ہوتا ہے قوم  کے اندر فکری دماغ اسی صورت میں پیدا ہوتے ہیں۔ غیر معیاری نظامِ تعلیم کبھی بھی قومی ترقی کی ضامن نہیں بن
    سکتی ۔ ملک کے دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ تعلیم  حوالے سے جب میں ملک کی مجموعی صورتحال انتہائی ناقص ہے۔ہمارے تعلیمی نظام کی جڑ یعنی پرائمری سیکشن کی سطح پر ملک کے سرکاری پرائمری اداروں کا جائزہ لیا جائے تو یہ خوفناک مشاہدہ سامنے آئے گا کہ علم کے یہ باغ صحرا بن چکے ہیں۔
    پرائمری سیکشن کی تعلیم سے متعلق میرا کچھ ذاتی تجربہ بھی ہے۔ اس تجربے کی روشنی میں میں چاہتا ہوں کہ سرسری طور پر  مسائل کی نشاندہی کروں جو پرائمری نظامِ تعلیم کو درپیش ہیں۔ان مسائل کی نشاندہی کا مقصد آپ کو اپنے معاشرے میں رائج تعلیمی نظام اور تعلیمی اداروں کا جائزہ لے کر اپنے بچوں کی عمدہ تعلیم کی تشکیل کرنے میں معاونت کرنی ہے۔

    بچے کےلئے اس کی زندگی کا سب سے حسین تحفہ اس کی تعلیم ہے جو اسے والدین کے زیر سایہ ملتی ہے۔ناقص اور غیر معیاری تعلیم کے سلسلے میں اولاً جو چیز ہمارے مشاہدے میں آئی ہے وہ ہے والدین کے اندر شعور کی کمی۔ آپ نے نپولین کا یہ قول تو سنا ہی ہوگا کہ"تم مجھے ایک پڑھی لکھی ماں دو، میں تجھے ایک پڑھی لکھی قوم دینے کی ضمانت دیتا ہوں"۔ کہتے ہیں کہ بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے۔ والدین کے شعور میں جب تک تعلیم کی اہمیت و افادیت نہیں ہوگی ا س وقت تک ان کی زیر سایہ پلنے والی نسلی بھی اس عظیم نعمت کی اہمیت کو جاننے اور اسے حاصل کرنےسے محروم ہوگی۔

     جب والدین کو تعلیم کی اہمیت کا اندازہ ہو گا تو اپنے بچوں کی تعلیمی تربیت پر مکمل دھیان دیں سکیں گے۔ بچوں کی پڑھائی کے سلسلے میں ان کی معاونت کر سکیں گے۔ایک باشعور مثالی والدین ہمیشہ اپنے بچوں کے تعلیم کے لئے لائحہ عمل طے کرتے ہیں ، مثلاً بچے کی نفسیات کے مطابق اس کی تربیت، بچے کے تعلیمی عمل کا گہرائی سے مشاہدہ، بچے کے اساتدہ سے تعلیمی سلسلے میں روابط یعنی بچے کے تعلیمی مسائل کو اس کے اساتدہ کی توسط سے جاننا، اسی طرح اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا، ٹائم ٹیبل مرتب کرنا،اپنے اوقات کا ایک خصوص حصہ بچے کے ہوم ورک، اپنے روزمرہ اوقات روزانہ کے کام کی نگرانی کے لئے وقف کرنا، کلاس میں پوزیشن، کلاس میں اپنے اس کی مجموعی کارگردگی کو جانچنا،روزانہ کے اسباق جو کلاس میں اساتدہ کی جانب بچے کو پڑھائے جاتے ہیں گھر کے اندر  اپنی نگرانی میں بچے کو پڑھوانا، یاد کروانا۔اس کے علاوہ صفائی جو کہ بچے کی شخصیت پر اپنا  اثر ڈالتی ہےکی جانب توجہ دینا بھی ایک مثالی والدین کی اول ذمہ داری ہے۔یہ ایسے امور ہیں جو ہر والدین کو تربیتِ اطفلال کے ضمن میں ملحوظ رکھنے چاہیے۔

    دوم نقطہ جو تعلیم کے سلسلے میں ہمارے پرائمری تعلیمی نظام کو درپیش ہے وہ پرائمری سطح پر اساتدہ کی اپنے فرضِ منصبی سے غفلت۔۔ پسماندہ علاقوں میں یہ  صورتحال انتہائی دگرگوں ہیں، سکول میں اساتدہ اپنے فرض سے غفلت کے مرتکب ہیں۔ جس مقصد کے لئے ان اساتدہ کی تقرری عمل میں لائی جاتی ہے اس مقصد کا حصول حکومت کی عدم توجہی، تعلیمی بورڈ کے افسران کی اپنی ذمہ داریوں سے غفلت کی وجہ سے حاصل نہیں ہو پا رہا ۔ وزارت تعلیم کے شعبہ میں  اس ضمن میں کوئی قانون سازی سرے سے ہیں ہی نہیں یا اگر ہے تو اس پر عملدارمد کو یقینی بنانے کی روایت نہیں۔


     پی ٹی سی (پرائمری ٹیچنگ سرٹیفیکٹ) پرائمری کے استاد کے لئے شرط ہے۔ اس کورس کا اہتمام زیادہ تر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کی جانب سے ہوتا ہے۔ اس کورس کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ ایک معلم کی بہترین تربیت کرتا ہے۔ لیکن سماج کے اندر اخلاقی و دینی قدروں کے فقدان نے معلم جیسے اہم فریضے کو بھی "دنیاوی مقاصد "کے لئے استعمال کیا۔ معاشرے میں مادہ پرستی اس حد تک غالب ہے صرف "سرکاری نوکری" کے حصول کے لئے اس کورس کو کیا جاتا ہے۔ اس کورس کا دورانیہ  ایک سال (6،6 ماہ کے دو سمسٹر)ہے۔

    اس کورس کا طریقہ کار یہ ہے یونیورسٹی اپنے طلباء کو گھر بیٹھے یہ سہولت مہیا کرتی ہے۔اس سلسلے میں طلباء کو گھر بیٹھے Assignments لکھنےپڑھتے ہیں اور ٹیوٹر کے ذریعے سے جو کہ یونیورسٹی کی جانب سے مقرر ہوتا ہے یونیورسٹی بھیج جاتے ہیں۔ دوسری مرحلہ ورکشاپس کا ہے۔ ان Assignments کی ترسیل کے بعد طلباء 15 دن کی ورک شاپ  سمسٹر کے آخر میں ضلعی سطح پر جوائن کرتے ہیں۔اس کورس کی تکمیل پر ایک طالب علم پی ٹی سی پوسٹ کے لئے اہل ہو جاتا ہے۔ تاہم حکومت نے حالیہ تعلیمی پالیسی میں اس پوسٹ کےلئے  گریجویشن ضروری قرار دی  گئی ہے۔ بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے معاشرے کے اندر پی ٹی سی کرنے والے یہ طلباء کورس کے ان مقاصد کے حصول میں ناکام رہتے ہیں جوایک معلم کا تقاضہ ہے۔ طلباء میں بہت ساری ایسی کوتاہیوں کا مشاہدہ ہوا ہے جس کے اس نتیجہ پر پہنچا جا سکتا ہے کہ کورس نہ تو ایک اچھا معلم پیدا سکتا ہے اور نہ اسے آئندہ نسل کی بہترین تشکیل کا ضامن بن سکتا ہے۔چیک اینڈ بیلنس سسٹم کا فقدان، اداروں میں رشوت،بد عنوانیت نے طلباء کے اندر حقیقی علم کے حصول میں مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

     طلباء اس کورس میں کونسی کوتاہیاں برتتے ہیں
    •     یونیورسٹی کی جانب سے دئیے گئے Assignments کو بجائے خود حل کرنے کے دوست احباب سے حل کروانا۔
    •     طلباء کی اس روش کو دیکھتے سٹیشنرز حضرات نے حل شدہ پیپرز لکھوا کے رکھے ہوتے ہیں جو یہ طلباء خرید کر اپنے ٹیوٹر کو بھیج دیتے ہیں۔

    •     ان Assignments کی تیاری میں طلباء خود کو صرف اسے لکھ کر بھیجنے تک ہی محدود رہتے ہیں۔ جس سے معلمی وہ مقصد جو ان کتابوں کے ذریعے سے ایک طالب علم اپنے دل و دماغ میں اتارتا ہے کا جنازہ نکل جاتا ہے۔

    •       کورس کے دوران پی ٹی سی کرنے والے ان طلباء کی علمی شعور دینے کا فقدان بھی ہے۔

    •     سمسٹر کے آخر میں15 روزہ ورکشاپ میں طلباء کی اکثریت برائے نام حاضری دیتی ہے۔ ورکشاپ   انتظامیہ بھی اس سلسلے میں اپنے فرائض سے کوتاہی برتنے کی مرتکب پائی گئی ہے۔

    •     ان طلباء میں تعلیمی اپنے  فرض منصبی  جس پر انہیں فائز ہونا کی تربیت کا بھی فقدان ہے۔ 

    آپ خود فیصلہ کیجئے پی ٹی سی کرنے والے یہ طلباء کس قسم کے معلم بنیں گے جب کہ نہ تو ان کی باقاعدہ تربیت ہوئی، نہ ان کاتعلیمی شعور کا اہتمام ہوا، نہ وہ تعلیم کی اہمیت کو سمجھ سکے اور نہ ہی وہ ایک معلم کی ذمہ داریوں کا شعوری طور پر احاطہ کر سکیں۔ ایسی تعلیم سے ہو کر آنے والے معلمین سے ہم کیا توقع کرینگے وہ ملک کے مستقبل کے معماروں کی تعلیم و تربیت کرینگے۔

    اچھے معلم کی حوصلہ افزائی کرنا ہمارا معاشرتی فرض ہے۔
    قارئین! یہ ہمارا ایک سماجی المیہ ہے جس کا تدارک اگر نہ کیا گیا تو کل کا پاکستان جس کا خواب ہم ایک ترقی یافتہ پاکستان کے طور پر دیکھتے ہیں شرمندہ ء تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ ہمارا تعلیمی نظام ایک جامع، حالات حاضرہ سے منضبط، جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کا متقاضی ہے۔ ہمیں معاشرے کے اندر انفرادی اور اجتماعی طور پر یہ شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ بہترین تعلیم کسی بھی معاشرے میں ترقی کا سبب ہے۔ اگر ہم سماج کو انصاف، مساوات، باہمی رواداری، باہمی حقوق کا محافظ بنانے کے خواب دیکھتے ہیں تو ہمیں تعلیمی شعبے پر توجہ دینی ہو گئی۔

     بطور والدین ہماری ذمہ داری ہے ہم اپنے بچوں کے عمدہ مستقبل کی تشکیل میں ان کا ساتھ دیں۔ ان کے تعلیم میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے مناسب وقت دیں۔ بطور معلم ہماری ذمہ داری یہ ہے ہم اپنے طلباء کی ذہنی تربیت، ان کی تعلیمی صلاحیت اور ان میں علمی شعور اجاگر کریں.اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ ہمیں ایک اچھا باعمل مسلمان بنائے تاکہ ہم معاشرتی فلاح میں اپنے فرائض کی ادائیگی کے قابل ہوں۔
    ۔
    گوگل پلس پر شئیر کریں

    (بلاگ مصنف) سید آصف جلال

      بذریعہ جی میل تبصرہ
      بذریعہ فیس بک تبصرہ